ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سہراب الدین معاملہ:سابق چیف جسٹس آف انڈیایویوللت کی وضاحت ، میں امیت شاہ کی طرف سے حاضر ہوا تھا لیکن؟؟؟

سہراب الدین معاملہ:سابق چیف جسٹس آف انڈیایویوللت کی وضاحت ، میں امیت شاہ کی طرف سے حاضر ہوا تھا لیکن؟؟؟

Mon, 14 Nov 2022 11:16:43    S.O. News Service

نئی دہلی، 14؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ریٹائرڈ چیف جسٹس آف انڈیا اُدے امیش للت نے آج کہا کہ وہ سہراب الدین شیخ انکاؤنٹرمعاملہ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے لیے پیش ہوئے تھے، لیکن اس کی وجہ”ناگزیر“تھی، کیونکہ وہ کبھی بھی اس کیس میں مرکزی وکیل نہیں تھے- این ڈی ٹی وی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا، یہ سچ ہے کہ میں امیت شاہ کے لیے پیش ہوا، لیکن یہ غیر متعلق تھا،کیونکہ مرکزی وکیل رام جیٹھ ملانی تھے-جسٹس للت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مئی 2014میں حکومت تبدیل ہوئی، جب کہ انھیں پہلی بار اپریل میں شاہ کی نمائندگی کرنے کے لیے اس وقت کہا گیا تھا جب سابقہ حکومت برسراقتدار تھی- انہوں نے کہا کہ یہ عمل نظام کی تبدیلی سے بہت پہلے شروع ہوا تھا- انہوں نے کہاکہ مجھے اس کیس میں بریف کیا گیا تھا، لیکن میں کبھی بھی مرکزی وکیل نہیں رہا، میں شاہ کے شریک ملزم کی طرف سے پیش ہوا، اور وہ بھی مرکزی کیس میں نہیں -اگست 2014میں جج کے طور پر اپنی ترقی سے قبل جسٹس للت کئی ہائی پروفائل اور متنازعہ مقدمات میں وکیل تھے- انہوں نے گجرات میں سہراب الدین شیخ اور تلسی رام پرجاپتی کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر قتل میں امیت شاہ کی نمائندگی کی تھی- یو یو للت گجرات کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے وکیل تھے جب وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی حکومت سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثربی اور معاون تلسی رام پرجاپتی کے مبینہ فرضی انکاؤنٹر پر سوالوں کے دائرے میں آئی تھی-جسٹس للت کی بطور جج ترقی 2014میں جانچ کی زد میں آئی تھی جب پی ایم مودی کی قیادت میں نئی بننے والی بی جے پی حکومت نے عدلیہ کے لیے سابق سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم کی سفارش واپس بھیج دی تھی- یو یو للت کو مبینہ طور پر سبرامنیم کی جگہ سپریم کورٹ کے جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا، جن کا نام بی جے پی زیر قیادت حکومت نے دوبارہ غور کے لیے واپس بھیجا تھا-سبرامنیم نے تب الزام لگایا تھا کہ سہراب الدین شیخ کیس میں عدالت کی مدد کرنے میں ان کے کردار کی وجہ سے انہیں ”آزادی اور سالمیت“کا مظاہرہ کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے-

ایک بے مثال اقدام میں، اس وقت کے سی جے آئی آر ایم لودھا نے ریکارڈ پر کہا تھا کہ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت نے سبرامنیم کی فائل کو”یکطرفہ طور پر“منسوخ کر دیا تھا اور ان کے علم اور رضامندی کے بغیر اسے”الگ تھلگ“کر دیا تھا- جسٹس للت جسٹس آر ایف نریمن کے بعد دوسرے شخص تھے، جو سابق سالیسٹر جنرل بھی ہیں، تقریبا ًدو دہائیوں میں بار سے براہ راست سپریم کورٹ کے جج بنے-


Share: